کُنّ" خدا نے جد فرمایا
اس نظم میں شاعر نے صوفیانہ فلسفے کو بیان کیا ہے۔ پہلی لائن میں 'کن' کا ذکر ہے جو کہ خدا کے تخلیقی حکم کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جب خدا نے یہ حکم دیا تو ہم بھی وہاں موجود تھے، جو کہ انسان کی روحانی موجودگی کی طرف اشارہ ہے۔ دوسری لائن میں خدا کی واحدانیت اور اس کی صفات کا ذکر ہے، جو کہ صوفیانہ عقیدے کا بنیادی حصہ ہے۔ تیسری لائن میں شاعر کہتا ہے کہ ہم ایک ہی لا مکان میں ہیں، جو کہ روحانی دنیا کی طرف اشارہ ہے، اور ہم ایک ہی بت کے اندر پھنسے ہوئے ہیں، جو کہ دنیاوی خواہشات کی قید کو ظاہر کرتا ہے۔ آخری لائن میں نفس اور شیطان کی پلیدی کا ذکر ہے، جو کہ انسان کی اندرونی برائیوں کی طرف اشارہ کرتا ہے، لیکن شاعر کہتا ہے کہ اصل پلیدی ختم ہو چکی ہے، جو کہ روحانی پاکیزگی کی طرف اشارہ ہے۔
| Word | Easy Meaning | Translation | Pron. |
|---|---|---|---|
| کُنّ | خدا کا تخلیقی حکم | خدا کا وہ حکم جس سے کائنات کی تخلیق ہوئی | kun |
| لامکان | بے جگہ | وہ جگہ جو کسی خاص مقام پر نہیں | laa-makaan |
| نفس | انسان کی خواہشات | اندر کی خواہشات | nafs |
| شیطان | برائی کا نمائندہ | برائی کی طرف لے جانے والا | shaitaan |
| پلِیتی | ناپاکی | گندگی | paleeti |
| ربے | خدا | مالک | rabbe |
| ذات | وجود | ہستی | zaat |
| صفات | خوبیاں | اوصاف | sifaat |
| آن | وقار | شان | aan |
| بُت | مورت | مجسمہ | but |
اس نظم کے شاعر کے بارے میں کوئی خاص معلومات دستیاب نہیں ہیں۔ یہ نظم صوفیانہ رنگ رکھتی ہے جو کہ پنجاب کی صوفی شاعری کی روایت کا حصہ ہے۔