Montgomery prison
یہ غزل فیض احمد فیض نے مونٹگمری جیل میں قید کے دوران لکھی تھی۔ اس میں شاعر نے آزادی کی خواہش اور محبوب سے جدائی کے درد کو بیان کیا ہے۔ پہلی لائن میں بہار کی آمد کا ذکر ہے جو خوشی اور امید کی علامت ہے۔ دوسری لائن میں شاعر اپنے محبوب کو بلاتا ہے کہ باغ کی رونق بحال ہو جائے۔ پنجرہ اداس ہے، یعنی شاعر کی قید کی حالت بیان کی گئی ہے۔ شاعر خدا سے دعا کرتا ہے کہ آج محبوب کا ذکر ہو۔ شاعر کی خواہش ہے کہ محبوب کی مسکراہٹ سے صبح کا آغاز ہو اور رات محبوب کے بالوں کی خوشبو سے معطر ہو۔ شاعر کا دل غریب ہے لیکن درد کا رشتہ مضبوط ہے۔ شاعر کے نام پر غمگسار آئیں گے۔ شاعر نے جدائی کی راتوں کی تکلیف کو بیان کیا ہے اور اس امید کا اظہار کیا ہے کہ اس کے آنسو محبوب کی عاقبت کو سنوار دیں گے۔ شاعر کو محبوب کے سامنے اپنے جنون کا دفتر پیش کرنے کی طلب ہے۔ آخر میں شاعر کہتا ہے کہ 'فیض' کا کوئی مقام نہیں جو محبوب کے کوچے سے نکل کر دار کی طرف چلا جائے۔
| Word | Easy Meaning | Translation | Pron. |
|---|---|---|---|
| guloñ | پھولوں | پھول | guloñ |
| rang | رنگ | رنگت | rang |
| bhare | بھریں | بھرنا | bhare |
| bād-e-nau-bahār | نئی بہار کی ہوا | بہار کی تازہ ہوا | baad-e-nau-bahaar |
| qafas | پنجرہ | قید خانہ، جیل | qafas |
| udaas | اداس | غمگین، مایوس | udaas |
| sabā | ہوا | صبح کی ہوا | sabā |
| zikr-e-yār | محبوب کا ذکر | محبوب کی باتیں | zikr-e-yār |
| kunj-e-lab | لب کا کنارہ | ہونٹ کا کنارہ | kunj-e-lab |
| sar-e-kākul | بالوں کا سر | بالوں کی چوٹی | sar-e-kākul |
| mushk-bār | خوشبو دار | خوشبو سے بھرا ہوا | mushk-bār |
| ġharīb | غریب | مفلس، نادار | ġharīb |
| ġham-gusār | غم کا ساتھی | غم بانٹنے والا | ġham-gusār |
| shab-e-hijrāñ | جدائی کی رات | فراق کی رات | shab-e-hijrāñ |
| āqibat | انجام | آخرت، نتیجہ | āqibat |
| huzūr-e-yār | محبوب کے سامنے | محبوب کی حضوری | huzūr-e-yār |
| daftar-e-junūñ | جنون کا دفتر | دیوانگی کی کتاب | daftar-e-junūñ |
| girah | گرہ | بند | girah |
| garebāñ | گریبان | کپڑے کا کالر | garebāñ |
| tār tār | چاک چاک | پھٹا ہوا | tār tār |
| maqām | مقام | جگہ | maqām |
| kū-e-yār | محبوب کا کوچہ | محبوب کی گلی | kū-e-yār |
| sū-e-dār | دار کی طرف | پھانسی کی طرف | sū-e-dār |
چودھری فیض احمد فیض (13 فروری 1911 – 20 نومبر 1984) ایک پاکستانی شاعر اور اردو و پنجابی ادب کے مصنف تھے۔ فیض اپنے وقت کے سب سے مشہور، مقبول اور بااثر اردو لکھاریوں میں سے ایک تھے، اور ان کے خیالات اور کام پاکستان، بھارت اور دنیا بھر میں وسیع پیمانے پر اثرانداز ہیں۔
View on Wikipedia