تمہیں ہے اپنے ستم کا ملال ویسے ہیہمارے دوش پہ سر تھا وبال ویسے ہی
یہ اشعار احمد فراز کی ایک غزل سے ہیں جس میں شاعر اپنے محبوب سے مخاطب ہے۔ پہلے مصرعے میں شاعر کہتا ہے کہ محبوب کو اپنے ظلم کا افسوس ہے، لیکن یہ افسوس بھی ویسا ہی ہے جیسے ہمیشہ ہوتا آیا ہے۔ دوسرے مصرعے میں شاعر اپنے کندھوں پر سر کا بوجھ محسوس کرتا ہے، جو کہ ایک استعارہ ہے ان کی زندگی کے مسائل اور مشکلات کے لئے۔ یہ اشعار محبت میں پیدا ہونے والے غم اور درد کی عکاسی کرتے ہیں، جہاں محبوب کے رویے سے شاعر کو تکلیف پہنچتی ہے۔ احمد فراز کی شاعری میں یہ خاصیت ہے کہ وہ محبت کے جذبات کو بہت خوبصورتی سے بیان کرتے ہیں، اور ان کے الفاظ دل کو چھو لیتے ہیں۔
| Word | Easy Meaning | Translation | Pron. |
|---|---|---|---|
| ستم | ظلم | کسی پر زیادتی کرنا | sitam |
| ملال | افسوس | غم یا پچھتاوا | malaal |
| دوش | کندھا | کندھا | dosh |
| وبال | بوجھ | مشکل یا مصیبت | wabaal |
احمد فراز پاکستان کے مشہور شاعر تھے جنہوں نے اردو شاعری میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی شاعری میں محبت، غم اور سماجی مسائل کی عکاسی ہوتی ہے۔
View on Wikipedia