یہ گدا گروں کی ہیں بستیاں یہاں چشم پوشی گناہ ہے
یہ شعر محسن احسان کی ایک غزل کا حصہ ہے جس میں شاعر نے معاشرتی ناہمواریوں کا ذکر کیا ہے۔ پہلے مصرعے میں شاعر کہتا ہے کہ یہ جگہ بھکاریوں کی بستی ہے اور یہاں ان کی حالت کو نظرانداز کرنا گناہ ہے۔ دوسرے مصرعے میں شاعر امیر لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اگر آپ شہر کی خوبصورتی کے مالک ہیں تو آپ پر لازم ہے کہ آپ اپنی خوبصورتی کی زکوٰۃ دیں، یعنی اپنی دولت کو دوسروں کے ساتھ بانٹیں۔ یہ شعر معاشرتی انصاف اور طبقاتی فرق کو اجاگر کرتا ہے اور لوگوں کو اپنی ذمہ داریوں کی یاد دہانی کراتا ہے۔
| Word | Easy Meaning | Translation | Pron. |
|---|---|---|---|
| گدا | بھکاری | وہ شخص جو مانگتا ہے | gadaa |
| بستیاں | آبادی | جہاں لوگ رہتے ہیں | bastiyaan |
| چشم پوشی | نظراندازی | نظرانداز کرنا | chashm poshi |
| گناہ | قصور | برا عمل | gunaah |
| امیر | دولت مند | مالدار شخص | ameer |
| شہر | قصبہ | آبادی والا علاقہ | sheher |
| جمال | خوبصورتی | حسن | jamaal |
| زکوۃ | خیرات | خیرات دینا | zakaat |
| حسن | خوبصورتی | خوبصورتی | husn |
محسن احسان اردو کے معروف شاعر ہیں جنہوں نے اپنی شاعری میں معاشرتی مسائل کو اجاگر کیا۔ ان کی شاعری میں انسانی جذبات اور سماجی حقیقتوں کی عکاسی ملتی ہے۔
View on Wikipedia