تہی زندگی اے نہیں یہ فضائیں
یہ شعر علامہ اقبال کی مشہور غزل 'ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں' کا حصہ ہے۔ اس شعر میں شاعر یہ بتا رہے ہیں کہ زندگی میں جو کچھ ہمیں نظر آتا ہے، وہی سب کچھ نہیں ہے۔ اس دنیا میں اور بھی بہت کچھ ہے جو ہمیں دیکھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔ شاعر کا پیغام یہ ہے کہ ہمیں اپنی زندگی کو محدود نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ ہمیشہ نئی راہوں کی تلاش میں رہنا چاہیے۔ یہ شعر ہمیں ترغیب دیتا ہے کہ ہم اپنی زندگی کے مقصد کو سمجھیں اور اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں تاکہ ہم زندگی میں کامیاب ہو سکیں۔
| Word | Easy Meaning | Translation | Pron. |
|---|---|---|---|
| تہی | خالی | خالی، جس میں کچھ نہ ہو | tahi |
| فضائیں | ہوائیں | ہوا، آسمان | fazaaein |
| کارواں | قافلے | قافلہ، مسافروں کا گروہ | kaarwaan |
علامہ اقبال ایک مشہور شاعر اور فلسفی تھے جنہوں نے برصغیر کے مسلمانوں کے لئے الگ وطن کا خواب دیکھا۔ ان کی شاعری میں فلسفہ خودی اور مسلمانوں کی بیداری کا پیغام ملتا ہے۔
View on Wikipedia