پلکو سے گر نا جاے یہ موتی سنبھال لو
یہ شعر انسانی جذبات کی نزاکت کو بیان کرتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ آنسو جو پلکوں سے گرنے والے ہیں، انہیں سنبھال لو کیونکہ یہ موتیوں کی مانند قیمتی ہیں۔ دنیا میں ہر کسی کے پاس ان کی قدر کرنے والی نظر نہیں ہوتی۔ یہ شعر اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ دنیا میں بہت سے لوگ ہیں جو دوسروں کے جذبات کو نہیں سمجھتے اور ان کی قدر نہیں کرتے۔ شاعر نے آنسوؤں کو موتیوں سے تشبیہ دی ہے جو ان کی قدر و قیمت کو ظاہر کرتی ہے۔
| Word | Easy Meaning | Translation | Pron. |
|---|---|---|---|
| پلکو | آنکھوں کی جھپکیاں | آنکھوں کے اوپر کے بال | palko |
| موتی | قیمتی پتھر | سمندر سے نکلنے والا سفید قیمتی پتھر | moti |
| سنبھال | محفوظ کرنا | دیکھ بھال کرنا | sambhaal |
| نظر | دیکھنے کی طاقت | آنکھوں سے دیکھنے کی طاقت | nazar |
اس شعر کے شاعر کا نام معلوم نہیں ہے۔ یہ ایک جدید دور کا شعر ہے جو اردو شاعری کی روایت کا حصہ ہے۔