یہ فخر تو حاصل ہے برے ہے کے بھلے ہے
ادا جعفری کی یہ غزل خود اعتمادی اور خودی کے موضوعات پر مبنی ہے۔ شاعرہ کہتی ہیں کہ چاہے دنیا ہمیں اچھا سمجھے یا برا، ہمیں اس بات کا فخر ہے کہ ہم نے اپنی زندگی کے کچھ لمحات کسی خاص شخص کے ساتھ گزارے ہیں۔ یہ غزل اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ انسان کو اپنی زندگی کے تجربات پر فخر ہونا چاہیے، چاہے وہ تجربات دنیا کی نظر میں اچھے ہوں یا برے۔ شاعرہ نے روایتی غزل کے عاشقانہ لہجے کو بڑے وقار کے ساتھ پیش کیا ہے، جہاں وہ اپنی ذات کے بارے میں کسی کے فیصلے کی پروا نہیں کرتی ہیں۔
| Word | Easy Meaning | Translation | Pron. |
|---|---|---|---|
| فخر | غرور، ناز | خود پر ناز کرنا | fakhr |
| حاصل | ملنا، پانا | مل جانا | haasil |
| برے | خراب، بد | خراب یا ناپسندیدہ | bure |
| بھلے | اچھے، نیک | اچھے یا پسندیدہ | bhale |
| قدم | پیر کا نشان | پیر رکھنا | qadam |
| ساتھ | ہمراہ، ہمسفر | کسی کے ساتھ ہونا | saath |
ادا جعفری اردو کی مشہور شاعرہ تھیں جنہوں نے غزل اور نظم دونوں میں نمایاں کام کیا۔ ان کی شاعری میں عورت کے جذبات اور معاشرتی مسائل کو خوبصورتی سے پیش کیا گیا ہے۔
View on Wikipedia