قناعت نہ کر عالم رنگ و بو پر
یہ شعر علامہ اقبال کی شاعری کا ایک حصہ ہے جس میں وہ انسان کو قناعت پسندی سے بچنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ اقبال کا پیغام ہے کہ انسان کو موجودہ حالت پر مطمئن نہیں ہونا چاہیے بلکہ مزید ترقی اور کامیابی کی جستجو کرنی چاہیے۔ 'عالم رنگ و بو' سے مراد یہ دنیا ہے جو اپنی رنگینیوں اور خوشبوؤں کے ساتھ دلکش ہے، لیکن اقبال کہتے ہیں کہ اس پر قناعت نہ کرو کیونکہ زندگی میں اور بھی مواقع اور امکانات موجود ہیں۔ 'چمن اور بھی آشیاں اور بھی ہے' کا مطلب ہے کہ دنیا میں اور بھی باغات اور آشیانے ہیں، یعنی اور بھی مواقع ہیں جنہیں تلاش کرنا چاہیے۔ یہ شعر انسان کو اپنی صلاحیتوں کو پہچاننے اور ان کا بھرپور استعمال کرنے کی دعوت دیتا ہے۔
| Word | Easy Meaning | Translation | Pron. |
|---|---|---|---|
| قناعت | اطمینان | موجودہ حالت پر راضی ہونا | qana'at |
| عالم | دنیا | دنیا کی حالت | aalam |
| رنگ و بو | خوشبو اور رنگ | خوشبو اور رنگ کی دنیا | rang o boo |
| چمن | باغ | باغ | chaman |
| آشیاں | گھونسلہ | گھونسلہ | aashiyaan |
علامہ اقبال برصغیر کے مشہور شاعر، فلسفی اور مفکر تھے۔ ان کی شاعری میں خودی، عشق، اور مسلمانوں کی بیداری کے موضوعات شامل ہیں۔
View on Wikipedia