ہے دعاۓ محسن بے نوا کہ نگار شعر کو ہو عطا
یہ اشعار محسن احسان کی ایک دعا کی صورت میں ہیں جس میں وہ اپنے کلام کے لئے روشنی اور خوشبو کی دعا کرتے ہیں۔ پہلے مصرعے میں شاعر دعا کرتے ہیں کہ ان کے اشعار کو ایسی چمک عطا ہو جو سورج کی روشنی جیسی ہو۔ دوسرے مصرعے میں وہ دعا کرتے ہیں کہ ان کے کلام کو ایسی خوشبو ملے جو ہرن کی ناف سے آتی ہے، جو ایک قدرتی اور دلکش خوشبو کی علامت ہے۔ یہ اشعار شاعر کی خواہشات اور ان کے کلام کی خوبصورتی کی تمنا کو ظاہر کرتے ہیں۔
| Word | Easy Meaning | Translation | Pron. |
|---|---|---|---|
| دعاۓ | التجا | مانگنا یا التجا | duaa'e |
| محسن | احسان کرنے والا | اچھا کرنے والا | mohsin |
| بے نوا | خاموش | خاموش یا آواز کے بغیر | be-nawaa |
| نگار | تصویر | خوبصورتی | nigaar |
| تابش | روشنی | روشنی یا چمک | taabish |
| مہر | سورج | سورج یا آفتاب | mehr |
| مہک | خوشبو | خوشبو یا عطر | mahak |
| ناف | پیٹ کا حصہ | پیٹ کا درمیانی حصہ یا ناف | naaf |
| غزال | ہرن | ہرن یا جانور | ghazaal |
محسن احسان اردو کے معروف شاعر ہیں جنہوں نے جدید اردو شاعری میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی شاعری میں جذباتی گہرائی اور فنی مہارت کی جھلک ملتی ہے۔
View on Wikipedia