ہوا میرا ریشا امید وہ نخل سر سبز
یہ شعر امید اور ترقی کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ شاعر اپنے خیالات کو ایک درخت کی شکل میں پیش کرتا ہے جو سر سبز ہے اور اس کی ہر شاخ پر پھول اور ہر پھول میں پھل ہے۔ یہ ایک استعارہ ہے جو زندگی کی ترقی اور خوشحالی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ شاعر یہ بتانا چاہتا ہے کہ اگر امید کا درخت مضبوط ہو تو زندگی میں ہر جگہ خوشحالی اور ترقی ممکن ہے۔ یہ شعر ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ ہمیں اپنی زندگی میں امید کو برقرار رکھنا چاہیے تاکہ ہم ترقی کی راہ پر گامزن رہ سکیں۔
| Word | Easy Meaning | Translation | Pron. |
|---|---|---|---|
| ریشا | تار | پتلا دھاگہ یا تار | reeshaa |
| نخل | درخت | پودا یا درخت | nakhul |
| سر سبز | ہرا بھرا | سبز اور شاداب | sar sabz |
| شاخ | ٹہنی | درخت کی ٹہنی | shaakh |
| پھول | گل | پھول | phool |
| پھل | میوہ | پھل | phal |
یہ شعر کسی معروف شاعر سے منسوب نہیں ہے۔ اردو شاعری کی روایت میں یہ شعر جدید دور کی شاعری کی مثال ہے۔
View on Wikipedia