جلنا تو خیر چرغوں کا مقدر ہے ازل سے
یہ شعر اردو شاعری کی ایک خوبصورت مثال ہے جو دل کی کیفیتوں کو بیان کرتا ہے۔ پہلے مصرعے میں شاعر کہتا ہے کہ چراغوں کا جلنا ان کی تقدیر میں لکھا ہوا ہے، یعنی ان کا کام ہی جلنا ہے۔ دوسرے مصرعے میں دل کے کنول کی بات کی گئی ہے، جو کبھی بجھتے ہیں کبھی جلتے ہیں، یعنی دل کی کیفیتیں بدلتی رہتی ہیں۔ یہ شعر دل کی نازک حالت اور جذبات کی گہرائی کو بیان کرتا ہے۔ شاعر نے دل کو کنول کے پھول سے تشبیہ دی ہے جو کبھی کھلتا ہے کبھی مرجھاتا ہے، اور یہ دل کی کیفیتوں کی عکاسی کرتا ہے۔
| Word | Easy Meaning | Translation | Pron. |
|---|---|---|---|
| چرغوں | چراغوں | روشنی دینے والے چراغ | charaghon |
| مقدر | قسمت | وہ جو پہلے سے طے شدہ ہو | muqaddar |
| ازل | ہمیشہ | شروع سے ہمیشہ | azal |
| کنول | پھول | ایک قسم کا پھول جو پانی میں کھلتا ہے | kanwal |
| بجھے | ختم ہونا | ختم ہو جانا | bujhe |
یہ شعر کسی معروف شاعر کے نام سے منسوب نہیں ہے، لیکن یہ اردو شاعری کی جدید دور کی ایک مثال ہے۔ اردو شاعری میں دل کی کیفیتوں اور جذبات کو بیان کرنے کا ایک خاص مقام ہے۔
View on Wikipedia