تیرے پہلو سے جو اٹھو گا تو مشکل یہ ہے
یہ اشعار احمد ندیم قاسمی کی ایک غزل سے ہیں، جس میں شاعر نے اپنی تنہائی اور خود شناسی کے جذبات کو بیان کیا ہے۔ پہلے مصرعے میں شاعر کہتا ہے کہ جب وہ اپنے محبوب کے پاس سے اٹھے گا تو اسے مشکل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ دوسرے مصرعے میں شاعر کہتا ہے کہ وہ جہاں بھی جائے گا، اسے صرف ایک ہی شخص ملے گا، جو اس کی اپنی ذات ہے۔ یہ اشعار انسانی جذبات کی گہرائی اور خود شناسی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔ شاعر نے اپنے اندرونی احساسات کو بہت خوبصورتی سے بیان کیا ہے، جو کہ قاری کو متاثر کرتے ہیں اور اسے اپنے جذبات کی عکاسی کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔
| Word | Easy Meaning | Translation | Pron. |
|---|---|---|---|
| پہلو | ساتھ | کسی کے قریب یا پاس ہونا | pehlu |
| اٹھو | کھڑے ہو جاؤ | اٹھ کر جانا | uttho |
| مشکل | دشواری | کٹھنائی یا پریشانی | mushkil |
| صرف | محض | اکیلا | sirf |
| شخص | آدمی | انسان یا فرد | shakhs |
| پاو | ملوں | پانا یا حاصل کرنا | paao |
| جدھر | جہاں | جس طرف | jidhar |
| جاوں | جاؤں | چلا جاؤں | jaaoon |
احمد ندیم قاسمی اردو کے مشہور شاعر، افسانہ نگار، اور صحافی تھے۔ ان کی پیدائش 1916 میں ہوئی اور وہ 2006 میں وفات پا گئے۔ قاسمی نے اردو ادب میں نمایاں خدمات انجام دیں اور ان کی شاعری میں انسانی جذبات اور معاشرتی مسائل کی عکاسی ہوتی ہے۔
View on Wikipedia