طور موجے از غبارِ خانہ اش
یہ شعر فارسی زبان میں ہے اور اس میں خانہ کعبہ کی عظمت و تقدس کو بیان کیا گیا ہے۔ پہلے مصرعے میں 'طور موجے' کا ذکر ہے جو کہ خانہ کعبہ کے غبار سے نکلنے والی موجوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ یہ ایک استعاراتی بیان ہے جو خانہ کعبہ کی روحانی تاثیر کو ظاہر کرتا ہے۔ دوسرے مصرعے میں 'کعبہ را بیت الحرم کا شانہ اش' کہا گیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ کعبہ کو بیت الحرم کا شانہ بنایا گیا ہے۔ یہ شعر خانہ کعبہ کی روحانی اہمیت اور اس کے تقدس کو بیان کرتا ہے۔
| Word | Easy Meaning | Translation | Pron. |
|---|---|---|---|
| طور | طریقہ | انداز | toor |
| موجے | لہر | موج | mauje |
| از | سے | سے، کی طرف سے | az |
| غبارِ | گرد | دھول | ghubaar |
| خانہ | گھر | مکان | khaana |
| اش | اس کا | اس کی | ash |
| کعبہ | خانہ کعبہ | مسلمانوں کا مقدس مقام | kaaba |
| را | کو | کے لئے | raa |
| بیت | گھر | مکان | bait |
| الحرم | مقدس | حرمت والا | al-haram |
| کا | کا | کی | kaa |
| شانہ | کندھا | سہارا | shaana |
یہ شعر کسی معروف شاعر سے منسوب نہیں ہے، اور اس کا شاعر نامعلوم ہے۔