ہستی اک حباب کی سی ہے
یہ شعر میر تقی میر کی شاعری کا حصہ ہے جس میں انہوں نے انسانی زندگی کی ناپائیداری اور دھوکہ دہی کو بیان کیا ہے۔ پہلے مصرعے میں زندگی کو ایک بلبلے سے تشبیہ دی گئی ہے جو بہت جلد ختم ہو جاتا ہے، یعنی زندگی بھی عارضی اور ناپائیدار ہے۔ دوسرے مصرعے میں دنیا کی چمک دمک کو سراب سے تشبیہ دی گئی ہے، جو حقیقت میں کچھ نہیں ہوتا بلکہ ایک دھوکہ ہوتا ہے۔ میر تقی میر نے اس شعر کے ذریعے زندگی کی حقیقت کو نہایت سادہ اور گہرے انداز میں بیان کیا ہے۔
| Word | Easy Meaning | Translation | Pron. |
|---|---|---|---|
| ہستی | زندگی | زندگی | hasti |
| حباب | بلبلہ | پانی کا بلبلہ جو جلدی پھٹ جاتا ہے | habaab |
| نمائش | دکھاوا | چمک دمک یا دکھاوے کی چیز | numaish |
| سراب | دھوکہ | نظر کا دھوکہ | saraab |
میر تقی میر اردو کے مشہور شاعر ہیں جو 18ویں صدی میں پیدا ہوئے۔ ان کی شاعری میں انسانی جذبات اور زندگی کی ناپائیداری کا گہرا اثر ہے۔
View on Wikipedia