اور لے اے بازار سے اگر ٹوٹ گیا
اس شعر میں مرزا غالب نے مادی چیزوں کی ناپائیداری اور سادگی کی خوبصورتی کو بیان کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر میرا جام ٹوٹ جائے تو میں بازار سے نیا لے آؤں گا، لیکن میرے لئے مٹی کا پیالہ زیادہ قیمتی ہے کیونکہ یہ سادگی اور عاجزی کی علامت ہے۔ غالب یہاں مادی چیزوں کی عارضی حیثیت کو اجاگر کرتے ہیں اور سادگی کی تعریف کرتے ہیں۔ یہ شعر ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ہمیں مادی چیزوں کی بجائے سادگی اور عاجزی کو ترجیح دینی چاہئے۔
| Word | Easy Meaning | Translation | Pron. |
|---|---|---|---|
| ساغر | پیالہ | شراب کا گلاس | saaghar |
| جم | جمشید | ایرانی بادشاہ جمشید | Jamshaid |
| جام | پیالہ | شراب کا گلاس | jaam |
| سفال | مٹی | مٹی کا بنا ہوا | sifaal |
مرزا غالب اردو اور فارسی کے مشہور شاعر تھے، جنہوں نے 19ویں صدی میں اپنی شاعری کے ذریعے ادب میں انقلاب برپا کیا۔ ان کی شاعری میں فلسفیانہ خیالات اور انسانی تجربات کی گہرائی نظر آتی ہے۔
View on Wikipedia