کچھ کرو فکر مجھ دیوانے کی
یہ شعر میر تقی میر کی غزل کا حصہ ہے جس میں شاعر اپنے دیوانگی کی فکر کرنے کی درخواست کر رہا ہے کیونکہ بہار کا موسم آنے والا ہے۔ بہار کا موسم خوشیوں کا پیغام لاتا ہے اور شاعر کو اس بات کی فکر ہے کہ اس کی دیوانگی کہیں اس خوشی کے موسم میں رکاوٹ نہ بن جائے۔ میر کی شاعری میں اکثر عشق اور دیوانگی کا ذکر ملتا ہے اور یہ شعر بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ شاعر کی دیوانگی کی فکر اور بہار کے آنے کی خوشی کو ایک ساتھ بیان کیا گیا ہے جو انسانی جذبات کی پیچیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔
| Word | Easy Meaning | Translation | Pron. |
|---|---|---|---|
| کچھ | تھوڑا | کسی حد تک | kuchh |
| فکر | پریشانی | خیال | fikr |
| دیوانے | پاگل | عاشق | diwaane |
| فھوم | سمجھ | جاننا | fahoom |
| بہار | موسمِ بہار | پھولوں کا موسم | bahaar |
| انے | آنے | پہنچنے | aane |
میر تقی میر اردو کے مشہور شاعر ہیں جن کا تعلق اٹھارویں صدی سے ہے۔ ان کی شاعری میں عشق، غم اور انسانی جذبات کی عکاسی ملتی ہے۔ میر کی شاعری کو اردو ادب میں ایک خاص مقام حاصل ہے۔
View on Wikipedia