حرارت جنگ و جدل اجاڑ دیتی ہے زندگیاں
یہ نظم جنگ و جدل کے اثرات کو بیان کرتی ہے۔ نظم میں بتایا گیا ہے کہ جنگ کی حرارت کیسے زندگیوں کو برباد کر دیتی ہے اور کلیاں مرجھا جاتی ہیں۔ ہر طرف خود غرضی کا ماحول ہوتا ہے اور خون کی ندیاں بہتی ہیں۔ آسمان پر گولہ باری کی بارش ہوتی ہے اور خوفزدہ چہروں کی قطاریں ہوتی ہیں۔ ہر دل میں خوف و دہشت ہوتا ہے کہ نہ جانے اگلے لمحے کس گھر میں ماتم ہوگا۔ کفن میں لپٹے چہروں کی چمک دل کو چیر دیتی ہے اور خون میں لتھڑے جسموں کی حالت سانسیں بکھیر دیتی ہے۔ انسانی اقدار کی بے حرمتی معمول بن جاتی ہے اور درندوں کے قافلے اسی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ ہر لمحہ زندگیوں کا انجام برباد ہو جاتا ہے اور صرف غم و الم کا کوڑا باقی رہ جاتا ہے۔ مال و دولت کی ہوس انسان کو حیوان بنا دیتی ہے اور طاقت کا نشہ اسے ہر وقت لوگوں سے بیزار کر دیتا ہے۔ لوگوں میں فاقہ کشی کا دور دورہ ہوتا ہے لیکن محلوں میں رہنے والے دلالوں کا پانی بھی مشک عنبر ہوتا ہے۔ کسی کو اپنے پیاروں کے چھن جانے کا غم ہوتا ہے تو کسی کو اپنے دیاروں کے برباد ہونے کا دکھ ہوتا ہے۔ قارئین یہ منظر پڑھ کر گزر جاتے ہیں لیکن جن پر گزرتی ہے وہ بے چارے برباد ہو جاتے ہیں۔ وہ لوگ جن کی زندگی کبھی رنگ برنگے خوابوں سے تعبیر تھی اب دشمنوں کی تلوار سے بچنے کی کوشش ہی ان کا واحد اصول ہے۔ وہی لوگ جو ہر وقت مسکراتے تھے اب آنسوؤں کی آبشاروں میں نہاتے ہیں۔ وہی لوگ جو اکثر نغمے گنگناتے تھے اب دشمنوں کی قید میں آنسو بہاتے ہیں۔
| Word | Easy Meaning | Translation | Pron. |
|---|---|---|---|
| حرارت | گرمی | گرمی | haraarat |
| جدل | لڑائی | لڑائی | jadal |
| اجاڑ | برباد | ویران | ujaar |
| نفسا نفسی | خود غرضی | افراتفری | nafsaa nafsi |
| بوچھاڑ | بارش | تیز بارش | bochhaar |
| قطار | لائن | صف | qataar |
| دہشت | خوف | خوف | dehshat |
| ہیبت | رعب | خوف | haibat |
| کفن | لاش کا کپڑا | میت کو لپیٹنے کا کپڑا | kafan |
| رمق | چمک | روشنی | ramq |
| لتھڑے | لپٹے | لت پت | lathray |
| تضحیک | بے حرمتی | بے عزتی | tazheek |
| درندوں | وحشی | جانور | darindon |
| شاخسانہ | نتیجہ | انجام | shaakhsaana |
| ہوس | لالچ | حرص | havas |
| خمار | نشہ | سرور | khumaar |
| فاقہ کشی | بھوک | فاقہ | faqa kashi |
| مشک عنبراں | خوشبو | معطر | mushk anbaran |
| الم | دکھ | غم | alam |
| تیغ | تلوار | خنجر | tegh |
| آبشاروں | جھرنے | آبشار | aabshaaron |
| زندانان | قیدخانے | جیل | zindanaan |
یہ نظم کسی خاص شاعر سے منسوب نہیں کی جا سکی۔ یہ ایک جدید دور کی نظم ہے جو جنگ و جدل کے اثرات کو بیان کرتی ہے۔