جو جھیل گۓ ہنس کے کڑی دھوپ کے تیور
ادا جعفری کی یہ نظم انسانی زندگی کی مشکلات اور ان کے مقابلے میں انسان کی استقامت کو بیان کرتی ہے۔ پہلے مصرعے میں شاعرہ ان لوگوں کی تعریف کرتی ہیں جو زندگی کی سختیوں کو ہنس کر برداشت کرتے ہیں۔ دوسرے مصرعے میں وہ اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ وہی لوگ جو دن کی سختیوں کو جھیل لیتے ہیں، رات کی ٹھنڈی چھاؤں میں بھی جل جاتے ہیں۔ یہ نظم اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ زندگی میں مشکلات کا سامنا کرنے والے لوگ ہی اصل میں کامیاب ہوتے ہیں، لیکن ان کی جدوجہد کبھی ختم نہیں ہوتی۔
| Word | Easy Meaning | Translation | Pron. |
|---|---|---|---|
| جھیل | برداشت | سہنا | jheel |
| کڑی | سخت | بہت زیادہ گرم یا مشکل | karrhi |
| تیور | رویہ | کسی چیز کا انداز یا حالت | tevar |
| خنک | ٹھنڈی | ٹھنڈک والی | khunnak |
| چھاؤں | سایہ | درخت یا کسی چیز کا سایہ | chhaaon |
| جلے | جل گئے | تکلیف میں ہونا | jalay |
ادا جعفری اردو کی معروف شاعرہ تھیں جو اپنی منفرد شاعری کے لئے جانی جاتی ہیں۔ ان کی شاعری میں خواتین کے جذبات اور معاشرتی مسائل کی عکاسی ملتی ہے۔
View on Wikipedia