ستاروں کے اگے جہاں اور بھی ہے
یہ شعر علامہ اقبال کی نظم 'بال جبریل' کا حصہ ہے، جس میں انہوں نے انسان کی ترقی کی لا محدود صلاحیتوں کی طرف اشارہ کیا ہے۔ پہلے مصرعے میں کہا گیا ہے کہ ستاروں سے آگے بھی دنیا موجود ہے، یعنی انسان کی ترقی کی کوئی حد نہیں ہے اور وہ ہمیشہ نئی بلندیوں کی طرف بڑھ سکتا ہے۔ دوسرے مصرعے میں عشق کی آزمائشوں کا ذکر ہے، جو یہ بتاتا ہے کہ عشق کی راہ میں مشکلات اور امتحان ہمیشہ رہتے ہیں، اور ان کا سامنا کرنا ضروری ہوتا ہے۔ یہ شعر انسان کو تحریک دیتا ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو پہچانے اور عشق کی راہ میں آنے والی مشکلات کا سامنا کرے۔
| Word | Easy Meaning | Translation | Pron. |
|---|---|---|---|
| ستاروں | فلک کے اجسام | آسمان پر چمکنے والے اجسام | sitaaron |
| جہاں | دنیا | دنیا | jahaan |
| عشق | محبت | محبت | ishq |
| امتحاں | آزمائش | کسی چیز کی جانچ یا پرکھ | imtihaan |
علامہ اقبال برصغیر کے مشہور شاعر، فلسفی اور سیاستدان تھے۔ ان کی شاعری نے مسلمانوں کو بیدار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کا شمار اردو اور فارسی کے عظیم شاعروں میں ہوتا ہے۔
View on Wikipedia