زندگی شمع کی مانند جلاتا ہو ندیم
احمد ندیم قاسمی کا یہ شعر زندگی کے فلسفے کو بیان کرتا ہے۔ شاعر اپنی زندگی کو ایک شمع کی مانند دیکھتے ہیں جو خود جل کر دوسروں کو روشنی دیتی ہے۔ وہ اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ اگرچہ وہ خود فنا ہو جائیں گے، لیکن ان کی کوششیں اور محنت دوسروں کے لیے روشنی کا سبب بنیں گی۔ یہ شعر زندگی کی قربانی، خدمت، اور دوسروں کی بھلائی کے لیے جینے کے فلسفے کو بیان کرتا ہے۔ شاعر یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ان کی زندگی کا مقصد دوسروں کی زندگیوں میں روشنی لانا ہے، چاہے اس کے لیے انہیں خود کو قربان ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔
| Word | Easy Meaning | Translation | Pron. |
|---|---|---|---|
| زندگی | حیات | جینے کا عمل | zindagii |
| شمع | موم بتی | روشنی دینے والی چیز | shamaa |
| مانند | جیسا | جیسا | maanind |
| ندیم | دوست | دوست | nadeem |
| بجھ | ختم ہونا | ختم ہونا | bujh |
| صبح | صبح کا وقت | دن کی شروعات | subah |
| کر | انجام دینا | انجام دینا | kar |
احمد ندیم قاسمی ایک معروف پاکستانی شاعر، افسانہ نگار، اور صحافی تھے۔ ان کی پیدائش 20 نومبر 1916 کو ہوئی اور وہ 10 جولائی 2006 کو وفات پا گئے۔ ان کا کام اردو ادب میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔
View on Wikipedia