اگر کھو گیا اک نشیمن تو کیا غم
یہ شعر علامہ اقبال کی غزل 'ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں' کا حصہ ہے۔ اس میں شاعر کہتا ہے کہ اگر ایک آشیانہ یا ٹھکانہ کھو بھی جائے تو کوئی غم نہیں کیونکہ دنیا میں اور بھی مواقع اور مقامات ہیں جہاں انسان اپنی کوششیں جاری رکھ سکتا ہے۔ یہ شعر انسان کو مایوسی سے بچنے اور امید کا دامن تھامے رکھنے کی تلقین کرتا ہے۔ اقبال کی شاعری میں خودی اور بلند حوصلگی کا پیغام ملتا ہے، جو انسان کو اپنی صلاحیتوں پر یقین رکھنے کی ترغیب دیتا ہے۔ اس شعر میں 'آہ و فغاں' کے مقامات کا ذکر ہے، جو اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ زندگی میں مشکلات کے باوجود انسان کو ہمت نہیں ہارنی چاہیے۔
| Word | Easy Meaning | Translation | Pron. |
|---|---|---|---|
| نشیمن | آشیانہ | پرندوں کا گھر یا انسان کا ٹھکانہ | nasheman |
| غم | فکر | پریشانی یا دکھ | gham |
| مقامات | جگہیں | مختلف جگہیں | maqaamaat |
| آہ و فغاں | رونا دھونا | غم و اندوہ کا اظہار | aah o fighaan |
علامہ اقبال بیسویں صدی کے معروف شاعر، فلسفی اور مفکر تھے۔ ان کی شاعری نے مسلمانوں کو بیداری اور خودی کا پیغام دیا۔ اقبال کی شاعری میں اسلامی فلسفہ اور خودی کا تصور نمایاں ہے۔
View on Wikipedia