چارہ سازوں سے الگ ہے مرا معیار کہ میں
یہ شعر خودی اور خود اعتمادی کی ایک خوبصورت مثال ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اس کا معیار عام لوگوں سے الگ ہے، یعنی وہ عام لوگوں کی طرح نہیں سوچتا یا عمل کرتا۔ جب وہ زخم کھاتا ہے، یعنی مشکلات کا سامنا کرتا ہے، تو وہ اور زیادہ نکھر جاتا ہے، یعنی وہ ان مشکلات سے سبق سیکھتا ہے اور بہتر بن جاتا ہے۔ یہ شعر انسان کی ان مشکلات کو بیان کرتا ہے جو اسے مضبوط بناتی ہیں اور اس کی شخصیت کو نکھارتی ہیں۔ یہ ایک مثبت پیغام ہے کہ مشکلات انسان کو بہتر بناتی ہیں اور اسے مزید سنوارتی ہیں۔
| Word | Easy Meaning | Translation | Pron. |
|---|---|---|---|
| چارہ | حل | آسان حل | chaara |
| سازوں | مددگار | آسانی سے مدد کرنے والے | saazon |
| معیار | پیمانہ | آسان پیمانہ | miyaar |
| زخم | چوٹ | آسان چوٹ | zakhm |
| سنور | نکھر | آسانی سے بہتر ہونا | sanwar |
یہ شعر کسی معروف شاعر سے منسوب نہیں ہے اور اس کا مصنف نامعلوم ہے۔ اردو شاعری میں یہ شعر جدید دور کی نمائندگی کرتا ہے جہاں خودی اور خود اعتمادی کے موضوعات پر زور دیا جاتا ہے۔