نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشت ویراں سے
یہ شعر علامہ اقبال کی امید اور یقین کی عکاسی کرتا ہے کہ اگر تھوڑی سی محنت کی جائے تو بے جان زمین بھی زرخیز ہو سکتی ہے۔ یہاں 'کشت ویراں' سے مراد وہ قوم ہے جو بظاہر برباد اور بے جان نظر آتی ہے، لیکن اگر اس میں تھوڑی سی محنت اور کوشش کی جائے تو وہ بہت زرخیز اور کامیاب ہو سکتی ہے۔ 'ساقی' کا ذکر یہاں ایک استعارہ کے طور پر کیا گیا ہے جو زندگی میں نئی روح پھونکنے کی علامت ہے۔ یہ شعر قوم کی ترقی اور خود اعتمادی کی طرف اشارہ کرتا ہے اور اس بات کی ترغیب دیتا ہے کہ محنت اور کوشش سے کسی بھی مشکل کو حل کیا جا سکتا ہے۔
| Word | Easy Meaning | Translation | Pron. |
|---|---|---|---|
| نا امید | مایوس | وہ شخص جو امید کھو بیٹھا ہو | naa-umeed |
| کشت | کھیت | زمین کا وہ حصہ جہاں فصل اگائی جاتی ہے | kisht |
| ویراں | برباد | خالی اور ویران جگہ | veeraan |
| نم | نمی | گیلاپن یا تری | nam |
| زرخیز | پیداوار | زرخیز زمین جو اچھی فصل دے سکتی ہو | zarkhaiz |
| ساقی | شراب پلانے والا | شراب دینے والا | saqi |
علامہ اقبال بیسویں صدی کے مشہور شاعر، فلسفی اور سیاستدان تھے۔ ان کا شمار اردو اور فارسی کے عظیم شعرا میں ہوتا ہے۔ اقبال نے مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ ریاست کا خواب دیکھا جو بعد میں پاکستان کی صورت میں حقیقت بنا۔
View on Wikipedia